السلام علیکم ناظرین! آج کی ویڈیو میں ہم حضرت صالح علیہ السلام کا قصہ بیان کریں گے۔ تو آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو بتاتے چلیں کہ اس ویب سائٹ پر ہم وظائف اور تعویذات کی ویڈیوز بھی اپلوڈ کرتے رہتے ہیں۔ اگر آپ کا کوئی بھی ایسا روحانی مسئلہ ہو جس کا آپ کو حل نہ ملتا ہو تو ویڈیو کے نیچے دیے گئے فون نمبرز پر رابطہ قائم کر کے اپنے مسائل کا قران حل نکلوا سکتے ہیں۔ ناظرین بت پرستی عام ہونے کی وجہ سے اللہ نے عاد علاقے کو تباہ کر دیا۔عاد کے لوگوں کی طرح ہمود کے لوگ بھی بہت محنت کش تھے۔ انہوں نے پہاڑوں پر خوبصورت مکان بنائے اور ان میں رہتے تھے۔ اس قبیلے کے لوگ اللہ سے احسان فراموشی کرنے لگے اور اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے اور بت پرست ہو گئے۔ حضرت صالح علیہ السلام بھی ادھر کے باشندے تھے۔جو بہت نیک اور عقلمند تھے۔ صالح علیہ السلام نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا شروع کی لیکن انہوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ ایک دن وہ لوگ پہاڑ کے اوپر ایک پتھر کی عبادت کر رہے تھے اور انہوں نے پتھر کو ایک بھیڑ کی قربانی دی۔

اونٹنی کا واقعہ


صالح علیہ السلام نے یہ دیکھ کر ان سے کہا تم اللہ کی عبادت کرو اور اسے قربانی دو۔ ان میں سے ایک نے کہا تم ہمیں اللہ کے ہونے کا تم پر یقین کریں گے۔ تم اپنے اللہ سے کہو اس چٹان سے اونٹنی نکل کر آئے اور وہ حاملہ بھی ہونی چاہیے۔ تب صالح علیہ السلام نے ان لوگوں کی التجا پوری کرنے کے لیے اللہ سے دعا کی۔ یہ ایک معجزہ تھا پھر اچانک چٹان ٹوٹنے کی آواز آئی اور ادھر خوبصورت اور حاملہ اونٹنی کھڑی تھی۔ صالح علیہ السلام نے اس اونٹنی کو سجدہ کیا کیونکہ وہ اللہ کے نور سے بنی تھی۔ ان میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے لیکن ابھی بھی کچھ لوگ نافرمان تھے۔تین دن بعد اس اونٹنی میں میں ایک اونٹ کو جنم دیا۔وہ اونٹنی اور اس کا بچہ رحمت اور محبت کی نشانی بن گئے۔قبیلے کے لوگ اسے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کہتے تھے۔ دن گزرتے گئے وہ چراگاہ سے پودے کھاتی اور کنویں سے پانی پیتی۔ وہ بہت بڑی تھی اور بہت زیادہ پانی پیتی تھی وہ اپنے بچے کو پیار کرتی اور اسے اپنا دودھ پلاتی۔جب قبیلے کے لوگوں نے اس کا دودھ دیکھا تو ان میں لالچ پیدا ہو گیا اور پھر صالح علیہ السلام کے پاس گئے اور اونٹنی کا دودھ استعمال کرنے کی اجازت مانگی۔ صالح علیہ السلام نے ایک دن چھوڑ کر ایک دن دودھ لینے کی اجازت دی۔آہستہ آہستہ کافی لوگ اس کے دشمن بن گئے اور قبیلہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک رات کافر اکٹھے ہوئے اور انہوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کی سازش کی۔ اگلے دن جب وہ پانی پینے آئی تو ایک آدمی نے اس کے پیر پر تیر چلا دیا۔اس نے دوڑنا شروع کیا پھر دوسرے شخص نے اس کے دوسرے پیر پر تلوار مار دی وہ وہیں گر گئی اور وہ مر گئی۔کافر خوشی سے جھوم اٹھے۔ صالح علیہ السلام نے ایک بار انہیں سمجھایا اب کافروں نے صالح علیہ السلام کو مارنے کی سازش کی۔ پھر صالح علیہ السلام نے وہ قبیلہ چھوڑ دیا اور دوسری جگہ منتقل ہو گئے۔کافر اپنے گھروں میں محفوظ تھے کہ اچانک بجلی چمکنے لگی۔زمین کانپنے لگی۔ وہاں کے لوگ مرنے لگے اور قبیلے میں میں سب نست و نابود ہو گیا۔

contrect us:
Female: 0305-7891555
For Male; 0303-0114786